بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید
صبح کا وقت تھااور نسیم کے جھونکے چل رہے تھے کہ مرغانَ سحر نے اپنے نشیمنوں سے نکل نکل کے حسین کو خواب بے ہوشی سے جگایا۔ خمار کی سی کروٹیں بدل کے آنکھیں ملتا ہوا اُٹھااور چاروں طرف مڑ مڑ کے دیکھا مگر زمرد کا کہیں پتا نہ تھا۔ جب معشوقہ،دل رباکی پیاری اور محبت بھری صورت کسی طرف نظرنہ آئی تو کلیجا دھک سے ہوگیا۔ ناتوانی اور سر پھرنے کی وجہ سے کئی دفعہ گر کے اٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ آس پاس ہر جگہ دیکھا،ہر طرف نظردوڑا دوڑا کے ڈھونڈا لیکن نازنین و ناز آفریں زمرد کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آخر ہر طرف سے مایوس ہو کے اورجستجو میں تھک کے موسٰی کی قبر کے پاس آکے بیٹھ گیا اور نہایت ہی حسرت و اندوہ کے عالم میں آنسو بہا بہا کے کہنے لگا:“پیاری زمرد تو کہاں گئ؟ آہ! کیا آسمان و زمین کھا گئے یا رات کی پریاں تجھے بھی ساتھ لے گئیں۔“
انفاقًا موسٰی کی قبر پر نظر جا پڑی اور یہ دیکھ کے متعجب ہوا کہ کچھ بدلی ہوئی سی ہے اور دو ایک پتھرزیادہ ہیں جو کل شام نہ تھے۔ حیرت کم نہیں ہوئی تھی کہ اس چٹان پر نظر گئی جس پر موسٰی کا نام کندہ تھا اور اس کتابے میں بھی کچھ تغیردیکھ کے غور سے پڑھنےلگا۔ کسی قدر بلند آواز میں اس کی زبان سے نکلا:“موسٰی و زمرد“اوراس کے ساتھ ہی چیخ مار کےوہ پھرسےبے ہوش ہوگیا۔ غم و اندوہ کے فوری جھٹکے پر طبیعت پھر غالب آئی، ہوش آیا اور دل میں کہا“افسوس وہی ہوا جو زمرد کہتی تھی۔ وہ مر گئی اور میں زندہ ہوں۔آہ! پریاں بڑی ظالم تھیں، اسے مار ڈالا اور مجھے نیم جان چھوڑ گئیں۔ آہ! وہ تو میری جان تھی پھر اس کے بغیر میں کیوں زندہ ہوں؟“
یہ کہہ کے اس چٹان سے سر ٹکرانے لگاجس پر دونوں بہن بھائیوں کے نام کندہ تھے۔ دل میں آئی کہ قبر کھول کے اپنے آپ کو بھی اس میں دفن کر دے۔ بلکہ اس ارادے سے چلا تھا کہ مذہب کے فرشتےنے کان میں کہا:“یہ دین کے خلاف اور مرنے والوں کی توہین ہے۔“ فرشتہءغیب کی یہ آواز سنتے ہی اس نے زور سے چلاّ کے کہا:“تو آہ پھر میں کیا کروں؟“ اور یہ کہہ کے زمیں پر گرا اور تڑپنے لگا۔دیر تک تڑپنے اور نالہ وزاری کے بعداُٹھا اوردوڑکے موسٰی کی قبر سے لبٹ گیا جسے اب وہ زمرد کی تربت سمجھتا ہے، اور جس طرح کوئی کسی زندہ شخص کی طرف متوجہ ہو کے باتیں کرتا ہےاسی طرح اس قبر کی طرف خطاب کر کے کہنے لگا:
“پیاری زمرد مرنا میرے اختیار میں نہیں؛خودکشی حرام ہےاور جینا بےسودو بے مزہ،لیکن کب تک؟ مرنا برحق ہےاور موت ایک دن آنی ہی ہے، پھر اس کا انتظار اسی جگہ کیوں نہ کیا جائے زندگی کے ان باقی دنوں میں تیری قبر میری مونس و جلیس ہوگی اور تیراخیال میرابےوفا معشوق۔ بس اب یہیں رہوں گا اور یہیں مروں گا۔ ہائے جس طرح تیرے بھائی نے تجھے اپنے پاس بلایا اسی طرح تو مجھے بلالے۔ تیری وصیت مجھ سے نہیں پوری ہوسکتی۔ اب میں یہیں کا ہوں۔ کیا عجب کہ ان پریوں کا پھر کبھی ادھر گزرہو؛وہ بڑی آسانی سے مجھے تیرے پاس پہنچادیں گی۔“
دل میں یہ فیصلہ کر لینے کر بعد حیسن کو کسی قدر تسکین سی ہوگئی۔ قبر پر سے اٹھ کے نہر کے کنارے گیا؛ پر نم آنکھوں پر پاک و صاف پانی کے چھینٹے دیے، وضو کیا اور قبر کے برابر کھڑے ہوکے چند نوافل ادا کیں۔ پھر بیٹھ کے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ زمرد کے لیے دعائے مغفرت کرنے لگااور ہمیشہ کے لیے یہیں کی سکونت اختیار کر لی۔
حیسن نے کچھ ایسے مضبوط دل سےاپنے لیے یہ زندگی اختیار کی تھی اور موت کی دعا مانگنے یا جان ستاں پریوں کے انتظار میں اسے کچھ ایسا مزا ملنے لگا تھا کہ اب اسے نہ وطن یاد ہے اور نہ وہ ارادہ حج۔ زمرد کا خیال اس کا قبلہ ہےاور وہ مشترک قبر اس کی مسجد۔ گھاس پات یا کبھی کبھی چڑیوں کے شکار پر زندگی بسر ہوتی ہے۔اور پیامِ مرگ کا ہر گھڑی انتظار رہتا ہے۔ جب کبھی اندوہ و غم کا زیادہ ہجوم ہوتا ہےتواپنی نازنین معشوقہ کی قبر سے لپبٹ کے اور رو دھو کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا ہے۔
اس حالت میںرہتے اور موسٰی اور زمرد کی تربت کا مجاور بنے اسے چھ مہینے گزر گئے۔ جاڑوں کا پورا موسم ان پہاڑوں پر بسر ہوا، جہاں ایک عرصے تک ان مظلوم شہیدان حسرت کی قبر پر برف کی چادر چڑہی رہی۔ موسم کی سخت سردی اور برف باری اس نے صبر شکر کے ساتھ جھیل لی۔ اب بہار کا زمانہ ہے اور ہر طرف پہاڑوں کے پہلو، نشیبی وادیاں اوریہ سارا مرغ زار پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہوا کے جھونکے ہمیشہ معطر اور مشکبار رہتے ہیں اور دل کا ولولہ ساعت بہ ساعت زیادہ بڑھتا جاتا ہے۔ حسین کا غم اب پہلے سے زیادہ جوش و خروش پر ہے۔اب اس بہار کو دیکھ کے اسے پریوں کے آنے کا زیادہ یقین ہے، اور ان ظالم پری وشوں کے انتظار میں بے صبری اور بے چینی پیدا ہو چلی ہے: “افسوس! موسٰی اور زمرد کا کام تو پریوں نے ایک ہی دن میں تمام کر دیااورمیں ایسا بدنصیب ہوں کہ انتظار ہی انتظار میں چھ مہینے گزر گئے اور وہ کیوں ادھر کا راستہ ہی بھول گئیں۔“
ایک دن صبح کو سو کے اٹھا تو خلاف معمول زمرد کی قبر پر ایک کاغذ پڑا ملا۔ حیرت و شوق سے دوڑ کے اسے اٹھایا اور پڑھاتو چند لمحے تک نقشِ حیرت بنا کھڑا رہا بار بار تحریر کو غور کر کے دیکھتااورکہتا:“نگاہ تو نہیں غلطی کر رہی؟“۔ مگر ساعت بہ ساعت یقین پختہ ہوتا جاتا کہ خاص زمرد کے ہاتھ کی تحریرہے۔ اس خط کی عبارت یہ تھی:
“حسین! میں اس عالم میں نہایت خوش ہوں۔ یہاں کی مسرتیں تیرے وہم و قیاس سے بالا ہیں۔ میں اسی باغ فردوس میں ہوں جس کا قرآن اورتمام کتب سماوی میں ہر مسلمان اور خدا شناس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ سب لذتیں خدا کی مہربانی سے مجھے حاصل ہیں۔ زہرہ و مشتری جن کے حسن کی شعائیں تجھے دور سے نظر آتی ہیں میرے مونس و جلیس ہیں۔ ان کا قصہ تو سن چکا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس عالم نور اور اس مرکز لاہوت کی مسرتیں کتنی دل فریب ہیں کہ انھیں ہاروت و ماروت کی جاں بازی کا خیال بھی نہیں آتا۔مگر میں یہاں بھی تیرے لیے حیران اور تجھ سے ملنے کی مشتاق ہوں۔ فرشتوں اور دیگر آسمانی روحوں کے ذریعے مجھے برابر معلوم ہوتا رہا کہ تومیری قبرکامجاور بنا بیٹھا ہے۔ وہ مادی کشش جو ایک عرصے تک روح کو عالم عناصر کی طرف متوجہ رکھتی ہے، مجھے بارہا میری قبر پر لے گئی۔ میں نے تجھے اپنی قبر سے لپٹ کے روتے دیکھااور خود بھی گھنٹوں تیرے ساتھ کھڑی ہو کے رویا کی۔مگر افسوس نہ تیری دنیاوی آنکھیں میری صورت دیکھ سکتی تھیں اور نہ تیرے مادی کان میرے رونے کی آواز سن سکتے تھے۔ تو ناحق موت کا منتظر ہے؛ ابھی تجھے بہت دنوں دنیا میں رہنا ہے۔ وہ وقت دور ہےجب کہ مجھے تیرے وصال کی خوشی حاصل ہوگی۔ وہ باغ جہاں تو ہے پریوں ک نشیمن تھا مگر تیرے سبب سے وہ وہاں نہیں آسکتیں اور چوں کہ ابھی تیرے مرنے کا وقت نہیں آیا،لہٰذہ تجھے قتل بھی نہیں کر سکتیں۔۔ یہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے وہ کسی طرح اپنےتفریح گاہ کو تجھ سے خالی نہیں کروا سکتیں۔ مجبورًا خود ان ہی کو اپنا نشیمن چھوڑ دینا پڑا۔ افسوس تو نے میری وصیت پر عمل نہ کیا۔ بدنام کرنے والے اور میرے نام پر تہمت لگانے والے اسی طرح ذلیل کررہے ہیں ۔ جن کے الزاموں کا طومار مجھے بہت ستاتا ہے۔ اسی وجہ سے میں تجھے پھر اپنی وصیت یاد دلاتی ہوں اور نہایت ہی آرزو کے ساتھ کہتی ہوں کہ جا اور میری وصیت پوری کر۔
تجھ سے دور اور تیری دل دادہ
--------زمرد“
حسین نے ہزارہا دفعہ اس خط کو پڑہا۔ اس کے طرز تحریر اور الفاظ کوٍقریب سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھا، کسی طرح سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مضمون کیا ہے۔ایک دفعہ گھبرا کے بولا:“کیا زمرد زندہ ہے“پھر آپ ہی کہنے لگا، “نہیں ، یہ ممکن نہیں اور وہ خود ہی لکھ رہی ہے کہ دوسرے عالم میں ہےاور فردوسَ بریں کی سیر کر رہی ہے۔ پھر یہ خط کیوں کر آیا اور کون لایا۔“ دیر تک غور کرتا رہا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دل میں آئی کہ زمرد کی ہدایت کے بموجب واپس چلا جائے مگر پھر آپ ہی بولا؛ “نہیں، یہ بالکل بے حاصل ہوگا۔ اول تو وہاں تک جایا کس سے جائے گااور با لفرض اگر جاؤں بھی تو اس قصے کا یقین کس کو آئے گا؛ سب مجھے جھٹلا کے بے وقوف بنائیں گے۔ نہیں میں نہیں جاسکتا۔ اب تو میں عہد کر چکا کہ زندگی کے باقی ماندہ دن اسی قبر اور زمرد کی یادگار کے پاس بسر کروں گا۔ زمرد کہتی ہے کہ ابھی مجھے بہت دنوں ایڑیاں رگڑناہیں؛بہتر؛ رگڑوں گا، اور جہاں تک جھیلا جائےگا جھیلوں گا۔ اس جگہ ایڑیاں رگڑنا بھی زمانے کی خاک چھاننے سے اچھا ہے۔افسوس زمرد دل میں خفا ہوگیکہ اب بھی اس کی وصیت نہ پوری کی، لیکن میں اپے عذرات پیش کیے دیتا ہوں۔ جو فرشتے میری روز روز کی خبر اس تک پہنچاتےہیں، میرا عذر بھی اس کے گوش گزار کر دیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ کھڑی مجھے دیکھ رہی ہو۔ میری باتیں اپنے کانوں سے سن رہی ہو۔ممکن کیا معنی بالکل قریں قیاس ہے، اب اپنے خط کاجواب سننے اسکی روح ضرور یہاں آئی ہوگی؛ہاں تو جو کچھ کہنا ہے اسی سے کیوں نہ کہہ دوں۔“
یہ خیال اس کے دل میں جم گیا اور زمرد کی قبر کی دیکھ دیکھ کے یوں کہنا شروع کیا:
“پیاری زمرد! نہ میں اس عالم نور میں ہوں جس میں تو ہے اور نہ میرے پاس وہ نورانی نامہ بر ہیں جو مجھ خاکی پیکر کا خط تجھ تک پہنچا دیں۔ اپنی نورانی اورنوری توجہ سے کام لے اور خود میری زبان سے میرا عذر سن۔ او حور وش اور خود مقبولِ الٰہی نازنیں! او غواص دریائے رموز وحدت و کثرت! کیا عجب کہ اپنے نور اور تجرد کی آنکھوں سے تو اس وقت میری ستم زدگی کا تماشا دیکھ رہی ہویا یہ میری آہ وزاری کی جگر دوز آواز تیرے روحانی کانوں تک پہنچ رہی ہو۔ زمرد! مجھے ان لوگوں کے پاس نہ بھیج جن کے فہم و ادراک سے تیری نورانیت اور تیری مقبولیت اور معصومیت کا قصہ بالا تر ہے۔ وہ میرے کہنے کو سچ نہ مانیں گے، لہٰذا اپنے عشق میں مجھے اس ذلت و رسوائی سے بچا اور اگر بارگاہ لم یزل میں تیری آواز کچھ بھی اثر رکھتی ہو تو مجھے کوشش کرکے اپنے پاس بلا۔ ان پریوں کو بھیج اور جلدی بھیج کہ اپنے تفریج گاہ کو مجھ سے خالی کر لیں۔ میری روح تیرے شوق میں ایک ذبح کیے ہوئے طائر کی طرح تڑپ رہی ہےاور اس مادی پنجرے سے نکلنے کےلیے پھڑکتی ہے۔ او محبت والی نازنین! مجھے کہیں اور نہ بھیج بلکہ اپنے پاس بلا۔“
اس قسم کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے حسین کا جوش اس قدر بڑھ گیا کہ بے تاب ہو کے زمین پر گرا اور لوٹنے اور تڑپنے لگا۔ اور جب ناتوانی زیادہ ہوئی تو قبر سے لپٹ کر بے ہوش ہوگیا۔ اس اس خط نے اس کا جوش بڑھا دیا تھااور اس کے دن پہلے سے زیادہ غم و اندوہ میں گزر رہے تھے۔ زمرد نے عالم سروشستان سے جو مراسلت کی تھی اس نے دل کے جذبات یکایک ابھار دیا تھا۔ روز مینونشین معشوقہ کو خواب میں دیکھتا اور روز ایک نیا خیال پیدا ہوتا۔ شاید عالم آخرت کا اتنا علم الیقین کسی مسلمان کو کم ہوگا جتنا کہ فی الحال حسین کو تھا۔دنیا اسکی نظر میں ہیچ تھی اور اپنے آپ کو عالم نور و ظلمت کے مابین ایک برزخ میں پاتا اور بےصبری و خود فراموشی کے ساتھ چاہتا تھا کہ کسی طرح اس مادی اور جسمانی جامے کو چاک کر کے عالم نور میں جا پہنچے۔جواب دیے کو بھی ایک مہینہ ہوگیا، جس کی ہر گھڑی زمرد کے نئے خط کے انتظار میں گزری تھی، آخر انتظار کا زمانہ ختم ہوا ور ایک اور خط ملا جس کا مضمون یہ تھا:
“اے محبوس ظلمت کدہ ارض! میری جستجو میں توحد سے گزرتا جا تا ہے۔ اور یہ نہ سمجھ کہ مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ میرے تعلقات تیرے ساتھ روحانی تھے۔ اور یہی سبب ہے کہ اس عالم میں بھی جہاں ہر طرف مسرتیں ہجوم کیے ہوئے ہیں اور خداوند جل وعلا نے ایک خاص بعد از فہم و ادراک لذت میرے دل میں پیدا کر دی ہےمیں تیری طرف سے اپنا خیال نہیں ہٹا سکتی۔ تیری یاد میں یہ روحانی لذتیں بھی میرے دل سے غم کا کانٹا نہیں نکال سکتیں۔
خیر اب تو نے پورا امتحان دیا ہے اور کوئی چیز تیرے دل سے میرا خیال نہیں نکال سکتی۔ تو مایوس نہ ہو اور مجھ سے ملنے کا سامان کر۔ یاد رکھ کہ یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں تو مجھے پا سکے گا۔ میں تجھ سے قریب بھی ہوں اور دور بھی ہوںلیکن جس دروازے سے تو میرے پاس آسکے گا وہ بہت فاصلے پر ہےاور وہاں تک تو بڑی محنت وریاضت سے پہنچ سکے گا۔ اسکام کے لیے تجھے نفس کشی و ریاضت بھی کرنا ہوگی اور بڑے بڑے سفر بھی کرنا پڑیں گے۔ اس طرح بے مرشد وہ رہبر پہاڑوں سے ٹکرانا بے سود ہے، اور نہ اس رونے دھونے سے کچھ ہوگا۔ اگر مجھ سے ملنے کا سچا شوق رکھتا ہے تو اس وادی سے نکل اور کوہ جودی کی مغربی گھاٹی میں ایک بڑا غار ہے جس میں بڑے بڑے خدا شناس لوگ چلہ کشی کر چکے ہیں۔ لوگ نہیں جانتے مگر مجھے یہاں آکے معلوم ہوا کہ جس غار میں جناب ابراہیم علیہ اسلام نے کواکب کے طلوع و غروب سے نسخ کرکے خدا کو پہچانا تھا، وہ یہی غار ہے، اب لوگ اس غار کو ارض شام میں بتاتے ہیں لیکن یہ صریح جھوٹ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا بچپن شام میں نہیں گزرا بلکہ اس سرزمین میں جہاں ان کا وطن تھا اور جہاں نوح علیہ اسلام کی کشتی ٹھہرنے کے بعدانکی نسل سکونت پزیر ہوگئی تھی۔ اس غار میں تو چالیس دن تک بیٹھ کے چلہ کھینچ اور کوشش کر کہ اس مدت میں ہر چھوتھے دن تھوڑی سی نباتی قوت لا یموت پر زندگی بسر کرے۔ یہ بھی ضروری ہی کہ پورے چلے بھر میں صرف ایک صورت تیرے سامنےہو اور صرف ایک خیال تیرے دل میں۔وہ صورت تو میری ہو اور وہ خیال یہ ان مرشد سے ملنے کا جن کے مریدوں میں شامل ہونےکو تو غار سے نکل کے روانہ ہوگا ۔ اس چلے کی تنہائی میں تو اکثر دیکھے گا کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہی ہو؛ مگر خبردار اس خیالی پیکر کے دھوکے میں نہیں آنا۔ کہیں ذرا بھی تیرے قدم کو لغزش ہوئی تو سمجھ لے کہ مجھ سے ملنے کی کوئی امید نہیں۔ چالیس دن کے بعد پچھلی رات کو اس غار اور کوہ جودی کی گھاٹیوں سے نکل کے سرزمین شام کو روانہ ہو اور بغیر اس کے کہ کسی اور جگہ قیام کرے، بہ خط مستقیم شہر خلیل میں جا۔ وہاں کے مشہور تہ خانےمیں حضرت یعقوب و یوسف علیہم اسلام کے جنازے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی آنکھ بچا کے اتر ۔ لوگ تجھے روکیں گے مگر ایسی کوشش کر کہ نگہبانوں اور مجاوروں کو خبر نہ ہو اور تو اندر پہنچ جائے۔ چالیس دن تک ان دونوں جنازوں کے درمیان میں بیٹھ کے چلہ کھینچ۔ پھر وہاں سے نکل کے شہر حلب کو جا۔ وہاں محلہ ارامنہ کے عقب میں تجھے ایک چھوٹی سی مسجد ملے گی جو مسجد الشاسمین کہلاتی ہے۔ اس مسجد میں جا کے ٹھر۔ دوسرے ہی دن نماز فجر کی جماعت میں ایک شخص آئے گا جو صوف کے کپڑے پہنے ہوگا۔ اس کے بال لمبے ہوں گے اور ایک سیاہ کملی میں اپنا سارا جسم چھپائے ہوگا۔اس شخص کی چھوٹی ڈاڑھی میں نصف سے زیادہ بال سفید نظر آئیں گےاور اس کا عمامہ سبز ہوگااس لیے کہ سادات بنی فاطمہ سے ہے۔اس نورستان میں اگرچہ وہ کسی اور معزز خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اس عالم عناصر میں اس کا نام الشریف علی وجودی ہے۔ یہ شخص اگرچہ بالکل منکسرانہ مزاج و وضع کا نظر آئے گا مگر اس کی آنکھوں سے ریاضت و نفس کشی اورجذبات روحانی زیادہ ہونے کی وجہ سے شعلے نکلتے ہوں گے۔ خوب یاد رکھ کہ جب تک تو شریف علی وجودی کے سامنے نہ جاپہنچےگا وہ تیری طرف نہ توجہ کریں گے۔ ان بتائی ہوئی نشانیوں سے تو ان کو پہچان لینااور ان سے حق کا خواستگار ہونا۔یہی شخص تجھ کو مجھ سے ملا سکتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں ہماری کامیابی ہے۔ اگر میرا شیدا اور میرا آرزومند ہے تو جب تک مقصد نہ بر آئے شیخ کی خدمت اور غلامی کرنا۔ اگر تو پورے ایک سال تک شریف علی کی خدمت میں رہے گا تو کوئی ایسا موقع ضرور پائے گا جب کہ وہ ایک جوش اور ولولے میں انسان کو ملاء اعلٰی کی سیر کردینے کا دعٰوی کریں گے۔ یہ دعوٰی سنتے ہی ان کے قدموں پر گر کے اپنی دلی آرزو ظاہر کرنا؛وہ بےشک منظور کریں گے۔ مگر اس کا خیال رہے کہ شیخ کے ہر حکم کی تعمیل خواہ تیری سمجھ آئے یہ نہ آئے بےعذراور بلا حجت کرنا۔
“بہ مے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید“
اگر یہ سب مراحل تو نے طے کر لیے اور شیخ کی اطاعت میں پوری سرگرمی اور گرم جوشی دکھادی تو جان لے کہ میرا آغوش تیرے لیے کھلا ہوا ہے۔ تجھ سے زیادہ میں تیرے لیے حیران ہوں۔بس اب جلدی اس وادی اور میری قبر کو چھوڑ اور مجھ سے ملنے کی کوشش میں استقلال و مستعدی دکھا۔
تیری دیدا اور مشتاق
زمرد“
حسین اپنے جوش محبت اور وطن و احباب سے متنفر ہوجانے کی وجہ سے زمرد کی پہلی وصیت اور اس کے بعد گزشتہ خط پر عمل نہیں کر سکتا تھا مگر اب اس خط کے بعد ممکن نہ تھا کہ ایک گھڑی بھر کے لیے بھی وہ اس وادی میں ٹھہر سکے ۔ زمرد کی محبت اور وفاشعاری یاد آئی، پلے نہایت ہی جوش و خروش کے ساتھ زمرد کی قبر سے رخصت ہوا پھر خط کو کئی بار چوم کے اور آنکھوں سے لگا کے سینے میں دل سے لگا کے رکھا اور کمر باندھ کے چل کھڑا ہوا۔ تنگ و تاریک گھاٹی سے بہ ہزار دشواری سنبھل سنبھل کے نکلا اور اسی مقام پر پہنچا جہاں اپنے اور زمرد کے گدھوں کو درختوں سے باندھ کر چھوڑ گیا تھا۔دونوں گدہے بندھے ہی بندھے سوکھ سوکھ کے سردی و برف باری کے صدمے اٹھا اٹھا کے مر گر گئے تھے۔ ان کی ہڈیاں درخت نے نیچے پڑی ہوئی تھیً۔ مگر یہ دیکھ کے وہ حیرین ہوا کی قدیم گدھے کے بدلے اب ایک نیا اور تازہ دم گدھا اُسی درخت میں بندھا اور کسا کھڑا ہے۔ خلاف امید اس سواری کو پا کر اس نے خداوند کریم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس عالم نور کے بہت سے رموز سے اسے اسن دینا میں ہی آشنا کر دیا تھا۔ اور آگے کی راہ لی۔ جہاں تک راستہ خراب اور پیچیدہ تھا وہں تک تو وہ گدھے کا دہانہ پکڑے ہوئے پاپیادہ گیا اور جب صاف اور کشادہ زمین مل گئی تو اس خدا کی دی ہوئی سواری پر سوار ہو کے سیدھا مغرب کی طرف چل کھڑا ہوا۔ چونکہ اس کوہستان کا سلسلہ بھی مشرق سے مغرب کو گیا ہے لہٰذہ اس کے دام ہی دام میں بادیہ پیمائی شروع کی اور دو مہینے کی دشت نوردی کے بعد علاقہ آذر بائیجان کے شہر تبریز میں جا پہنچا۔ جہاں سے کوہ جودی دس بارہ دن کی مسافت پر ہے۔ تبریز ایسا بارونق شہر تھا کہ حسین کے دل میں آئی دودن ٹھہر کے سیر کرلے مگر زمرد کی تاکید یاد آئی اور بغیر اس کےکہ کارواں سرا میں کمر بھی کھولی ہو، آگے کی راہ لی اور دس روز کر دشت نوردی کے بعد کوہ جودی کی سر بہ فلک چوٹی کے نیچے جا کھڑاہوا۔
کوہ جودی بہت بلند پہاڑ ہے اور ایران و ایشیا ئے کوچک بلکہ سلسہ کوہ قاف کی اکثر چوٹیوں سے زیادہ بلند ہے۔ حینس پہلے ایک بڑا چکر کھا کےاس زبردیست اور برف سے ڈھکے ہوئے قلعے کے مشرق پہلو پر نکل گیا اور اس غار کو ڈھونڈنے لگا جس میں اسے چلہ کشی کرنا تھی۔ کئی روز تک چٹانوں اور گھاٹیوں میں ٹکراتے رہنے کے بعد غار ملا۔ دور دور کے گاؤں والے اکثر اس غار کی زیارت اور اس کے تاریک دہانے پر کچھ نہ کچھ چڑھانے کو آتے رہتے تھے جن میں اس کی قدیم برکتوں کے قصے بہت مشہور تھے اور یہود و نصارٰی اور مسلمان سب اس کو حرمت و ادب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ انھیں گاؤں والوں میں سے ایک زائر کی زبانی حسین کو اس کے حالات معلوم ہوئے اور سمجھ گیا کہ یہی وہ مقام ہےجہاں اسے اپنی ریاضت و نفس کشی کا امتحان دینا ہے، اور جہاں جناب ابراہیم علیہ سلام نے خدا کو پہچانا تھا۔
دن کو جب حسین اس غار کے دہانے پر پہنچتا ہے اضلاع و جوانب کے چند خوش عقیدہ زائروں کا مجبع تھا۔ شام کو ان کے واپس جانے کے بعد جیسے ہی آفتاب غروب ہوا وہ خدا کانام لے کر اندر گھسا ۔ غار میں جاتے ہی وہ ریاضت میں مشغول ہو گیا اورکوشش کرنے لگا کہ وہاں کی بھیانک تاریکی میں زمرد کی خیالی تصویر کو چراغ بنا کے ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے ۔ ہر چوتھے دن پچھلی رات کو نکل کے گھاس اور پتوں سے بھوک کی حدت کم کرلیتا اور پھر اسی خلوت کدے میں جا بیٹھتا۔
آخر چلہ پورا کر کے ہمارے پرجوش نوجوان نے شام کی راہ لی۔ تین مہینے کے سفر کے بعد مقدس خلیل کی عمارتیں نظر کے سامنے تھیں ۔ آبادی میں داخل ہو کے سیدھا اس تہ خانے پر پہنچا۔ مگر یہاں نیچے اترنا بہت دشوار تھا اس لیے کہ ہر وقت لوگوں کا مجمع رہتا اور خرابی یہ تھی کہ جوکوئی اس مقدس غار میں اترنے کا ارادہ کرے عام مجاوروں کے عقیدے میں واجب القتل تھا۔ حیسن نے اپنے ارادے کو چھپایا اور مجاورین کو دوست بنا کے اس بات کی اجازت حاصل کرلی کہ اترنے کے راستے کو قریب ہی شب باش ہو۔ کئی راتیں جاگ کے کاٹیں مگر موقع نہ ملا۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہاں پاس ہی شب بیداری کرتے تھے اور ایسا کوئی وقت نہ ملتا جب لوگ مصروف عبادت و دعا نہ ہوں۔ دوتین ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پچھلی راات کو اٹھ کے دیکھا تو میدان صاف تھ، اور جو لوگ تھے ، سو رہے تھے۔ چپکے چپکے دبے پاؤں تہ خانے کے دروازے پر گیا اور چاروں طرف دیکھ کے جب اطمینان کر لیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تو بےتکلف نیچے اتر گیا۔
اس مقام پر جانا بڑی جراءت کا کام تھا۔ ان انبیائے عضام کا رعب ساعت بہ ساعت دل پر غالب آتا جاتا تھا۔ پاؤں کانپ رہے تھےاور دل دھڑکتا تھا۔ تاہم زمردکا شوق ان تمام دلی کمزوریوں پر غالب آیا اور وہ برابر بڑہتا چلا جاتا تھا۔ بار بار اسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے فرشتے روک رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مقدس جگہ کو اپنے قدموں سے ناپاک نہ کر۔ مگر اس سب خیالات کو مٹا مٹا کے وہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہاتھوں اور پاؤں سے ٹٹولتا ہوا تہ تک پہنچ گیا۔ رات کا وقت اور پھر وہ تاریک مقام، حسین نیچے پہنچ کے پریشان ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ تو سوجھائی نہیں دیتا ان برگزیدہ پیغمبروں کے جنازے کیوں کر نظر آئیں گے۔ عرصے تک ایک ہی جگہ پر کھڑا سوچتارہا۔ اور اب دل مضبوط کرکے آمادہ ہوا تھا کہ ٹٹول ٹٹول کے آگے بڑہےناگہاں صبح کی ہلکی ہلکی روشنی کی شعائیں اوپر سے پہنچیں اور وہ ٹھہر گیا کہ روز روشن ہولے تو شاید زیادہ آسانی سے اپنے معبودہ مقام پر پہنچ سکوں گا۔ اورر یہی ہوا دن کی رروشنی نے اندھیرا کم کردیااور اسے کئی لاشیں چبوتروں پر رکھی نظر آئیں جن میں سب کے درمیان میں حضرت یعقوب و حضرت یوسف علیہم سلام کے جسم تھے۔ ان کا انتقال چوں کہ مصر میں ہوا تھا لہٰذہ قدیم مصریوں کے مذاق پر انکی ممیاں بنائی گئی تھیں۔۔ جسم تو گلی تابوتوں میں تھے مگر چہرے کھلے ہوئے تھے جن سے اس تاریکی میں عجیب رعب و جلال برستا نظر آتا تھا۔ حسین یہ مقدس چہرے دیکھ کے سر سے پاؤں تک کانپ گیا اور کسی طرح قدم آگے بڑہانے کی جراءت نہ ہوتی تھی۔ چند لمحے تک مرعوب اور سہما کھڑا رہا، مگر پھر جی کڑا کرکے قدم آگے بڑھایا اور دونوں تابوتوں کے درمیان میں جاکے چپکے سے بیٹھ گیا جہاں دونوں باہیبت چہرے ہر وقت پیشں نظررہتے۔ اور ان کا رعب اس قدر غالب تھا کہ زمرد کے خیال کو وہ بہت مشکل سے آنکھوں کے سامنے متشکل کر سکتا تھا۔ مگر کوہ جودی کے چلے کی کوششوں نےوہ پیاری صورت زیادہ استقلال سے نظر کے سامنے قائم کر دی تھی۔ اور تھوڑی دیر ہی کوشش سے ان دونوں متبرک چہروں کے درمیان وہ اپنی معشوقہ کا چہرہ دیکھ لیا کرتا تھا۔
الغرض یہاں بھی وہ چلہ کشی میں مشغول ہو گیا۔ مگر یہاں کوہ جودی کےغارکی طرح یہ ممکن نہ تھا کہ کسی وقت نکل کے قوت لایموت حاصل کرلے۔ اس کا اسے پہلے ہی سے خیال تھا اور اس ضرورت سے تھوڑا سا پنیر چادر میں باندھ کر لیتا آیا تھا۔ دو تیں ٹکڑے چوتھے دن کھا کر خدا کا شکر گزار ہوتا۔ خدا خدا کرکے یہ چلہ بھی پورا ہوا اور اکتالیسویں رات کو وہ چپکے چپکے اور دبے پاؤں باہر نکلا کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو اور وہ حلب کی راہ لے۔ مگر لوگ جاگ رہے تھے جن میں سے بعض اسے پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے دیکھتے ہی دیکھتے غل مچا کے حملہ کیا اور حسین غار سے نکلتے ہی مجاوریں کے ہاتھ میں گرفتار تھا۔ ایک بڑی سخت بے ادبی اور گستاخی کا الزام اس پر لگایا گیا تھا۔اور قریب تھا کہ قتل کر ڈالا جائے مگر اتفاق یا اس کی خوش قسمتی شہر خلیل کا حکمران اسی روزایک باطنی فدائی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ لوگ اگرچہ باطنیہ لوگوں سے ڈرتے تھے مگ یہ اتنا بڑا اہم معاملہ تھا کہ انتقام کے درپے ہوگئے۔ اور باطنیوں کے ایک گاؤں پرتاخت کرنے کا سامان ہی کر رہے تھے کہ باطینوں کا ایک بڑا بھاری گروہ خود ان پر آپڑا۔سخت قتل و خون ہوا۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور اسی بے امنی کی حالت میں حسین مجاوروں کی قید سے چھوٹ کے حلب کو روانہ ہوا۔
آٹھویں دن شام کے وقت حلب میں داخل ہوا۔ راہ گیروں سے پوچھتا ہوا محلہ ارامنہ میں اور پھر مسجد الشماسین میں پہنچا۔ پہاں آتے ہی کمر کھول دی؛ سرشام ہی کچھ کھاپی لے عشاء کی نماز پڑہی اور پڑکے سوگیا۔ اگرچہ تھکا ماندہ تھا مگر زمرد کے وصال کا شوق سب پر غالب تھا۔ آدھی رات سے زیادہ نہ گزری ہوگی کہ آنکھ کھل گئی اور صبح تک نماز فجر کے انتظار میں کروٹٰیں بدلتا رہا۔ صبح کی اذان سے پہلے ہی وضو کر کے تیار ہوگیا اور دروازے پر بیٹھ کے ہر آنے والے کی صورت کا مطالعہ کرنے لگا۔ آس پاس کے مکانوں والے نیند کے خمار میں لّڑکھڑاتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے آتے اور وضو میں مشغول ہو جاتے۔ حسین کو اکثر لوگوں پر شیخ شریف علی وجودی کی صورت کا گمان ہوتا تھا۔ہر آنے والے میں اگر کوئی ایک علامت ہوتی تو اور علامتیں نہ پائی جاتیں۔ آخر دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا اور خود اپنے سے خطاب کرکے چپکے سے کہا: “مجھے یقین نہیں کہ شیخ کو پہچان سکوں“ ۔ یہ جملہ اس کی زبان سے نکلا ہی تھی کہ اسی حلیے اور وضع کا ایک شخص آیا اسکی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کے کھڑا ہوگیا اور مسکرا کے نہایت ہی تسلی وتشفی کےلہجے میں بولا: “حیسن! میں جانتا ہوں کہ تو میری تلاش میں آیا ہے“
اتنا سننا تھا کہ حسین قدموں پر گرپڑا اور شیخ شریف علی وجودی کے قدم چوم چوم کے اور ان کے پاؤں کو اپنے آنسوؤن سے دھو دھو کے کہنے لگا: “یا حضرت! میری مدد کیجیے۔ صرف آپ ہی کی رہبری سے مجھے حق کا راستہ مل سکتا ہے۔ جس صراط مستقیم پر چل کے انسان خدا اور عالم ارواح کو پہچان سکے وہ صرف آپ ہی جانتے ہیں۔“
شیخ: (جلال میں آکے) اے بحر وجود اور دریائے وحدت کے ذلیل و ناپاک قطرے! تیرا کیا حوصلہ کہ اس وجود غیر وجودٰ اور اس لاہوت غیر متنوع کی رموز سمجھ سکے؟
|١=باطنین کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا کی طرف کسی صفت کا منسوب کرنا کفر ہے۔ اور بظاہر جو صفات قرآن میں اس مذکور ہیںوہ اس اعتبار سے ہیں کہ یہ صفات اس نے مخلوق کو عطاکیے۔یہعنی خدا کو نور کہیں تو منور بصیر کہیں تو مبصر بصرت دینے والا اور اسی طرح موجود کہیں تو موجود کرنے ولا مراد ہے۔ اسی سے وہ صفات کو منسوب کرکے پھر نفی بھی کردیا کرتے تھے۔ یعنی کہتے تھے موجود غیر موجود، نور لانور وغیرہ۔|
حسین: بے شک میری کوئی ہستی نہیں مگر جب آپ کے سے شناورِ بحر وحدت کا ہاتھ پکڑلوں گاتو کیاعجب کہ اس طوفان خیز دریا سے پار ہوجاؤں۔
اور رو رو کے پھر سے شیخ کے قدم چومنے لگا۔
شیخ کا جلال کسی قدر کم ہوا۔ انھوں نے حسین کو ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ اپنا سینہ کئی دفعہ خوب روز سے اس کے سینے سے رگڑا اور کہا: “اچھا آمیرے ساتھ چل؛ میں تیرے ضبط و ظرف کا اندازہ کروں گا، اور جب معلوم ہولے گا کہ تیری طلب کہاں تک صادق ہے،اس وقت تجھے اپنے حلقہ ذوق میں شریک کروں گا۔“
حیسن نے یہ سن کے شکر گزاری کے طریقے سے سر اٹھایا؛شیخ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور ان کے ساتھ جا کے نماز میں شریک ہوا۔ نماز کے بعد شیخ علی وجودی اسے اپنی خانقاہ میں لے گئے جو شہر سے فاصلے پر ایک غیر آباد مقام میں تھی۔ حیسن کو یہ خیال کر کے تعجب ہوا کہ مسجد شماسین کو کیا خاص تخصیص ہے کہ شیخ وہاں فجر کی نماز ادا کرنے کو گئے تھے۔اس کا راز دریافت کرنے کوپوچھا:“کیا حضرت ہر روز نماز کے لیے اسی مسجد میں تشریف لے جاتے ہیں؟“
شیخ: (لاپروائی سے) نہیں صرف آج ہی گیا تھا!
حسین: تو شاید کسی خاص کام کے لیے ادھر تشریف لے جانے کا اتفاق ہوا ہوگا؟
شیخ: (ذرا ہرہمی سے)“ولا تجسسو|قرآن کی آیت ہے۔ مراد یہ ہے کہ لوگوں کے افعال کی جستجو نہ کیا کرو|!ان رموز معنی کے پیچھے نہ پڑنا چاہیے۔ اگر سچا شوق ہے تو کبھی خود ہی سارا راز کھل جائے گا۔ اب حرف سوال تیرے منہ سے نکل ہی گیا تو لےبتائے دیتا ہوں ۔ سن! جو لوگ خدا کے انوار ازلی و سرمدی کا انعکاس اپنے دل پر کرتے ہیں ان کی آنکھوں سے حجاب کا پردہ گر جاتا ہے ۔اورجہاں جہاں وہ نور لانور اپنی کرنیں ڈالتا ہے وہاں ان کی آنکھوں کی شعاعیں بھی پیہنچ جاتی ہیں ۔ میرا یہ جسبم مادی اسی خانقاہ میں تھا۔مگر ان آنکھوں کی تیز شعاعیں کوہ البرزکےپہلو میں تھیں جب تو زمرد کی قبر سے لپٹا ہوا رو رہا تھا۔ پھر جبل جودی کے غار ابراہیم میں تھیں جب زمرد کی تصویر تیرے سامنے اور میری جتجو تیرے دل میں تھی۔ پھر یہ شعاعیں اس تیرہ و تارتہ خانے میں تھیں جہاں یعقوب و یوسف علھم اسلام کے چہروں کے درمیان میں تو زمرد کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میں نے تیری اس بے کسی کو بھی دیکھا جب تو شہر خلیل کے مجاوروں کے ہاتھ میں اسیر تھا۔ تیری ہی مدد کے لیے میں نے اپنے دوستوں کو بھیجا۔ انھوں نے شہر والوں پر حملہ کر کے تجھے ادھر آنے کا موقع دیا۔ یہ کہتے وقت شیخ کی آنکھیں اس تیزی سے چمکیں کہ حیسن بالکل سہہ نہ سکااور شیخ کے قدموں پر سر رکھ کے ایک مجذوباتی جوش کے ساتھ کہنے لگا: “آپ سب جانے ہیں کوئی راز آپ سے پوشیدہ نہیں ۔ میری آرزو و تمنا بھی آپ کو معلوم۔۔۔۔۔“
شیخ: (جوش و خروش سے) سب جانتا ہوں، مگر ابھی اسکے اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس شوق کا تیری زبان سے ظاہر ہونا کسی خاص وقت اور خاص حال و کیفیت ہر موقوف ہے۔ بس اب اس وقت خاموش رہنا چاہیے۔
یہ حکم سن کے حسین اس قدر مرعوب ہوا کہ زمین پر پڑے ہی پڑے کانپنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ نے اسے اٹھا کے بٹھایا۔ سینے اور آنکھوں پر اپنا دست برکت پھیر کے اسکے دل کو تسلی دی اور کہا: “حیسن تو میری خانقاہ میں اور خاص میری صحبت میں رہا کر، اور جس قدر زیادہ خدمت کرے گا اور جس مستعدی سے بلاعذر و حجت میرے احکام کی جو اصل میں احکام الٰہی ہیں کی تعمیل کرے گا اسی قدر جلد کامیاب ہوگا۔ مگر یہ خوب سمجھ لے کہ ابھی تیرا ظرف اور تیرا دل اس قابل نہیں ہوا کا تنوعات ربانی اور انقلابات قدرت کے اسباب و علل سمجھ سکے۔ موسٰی و خضر کا قصہ ہر وقت پیش نظر رکھنا اوریہ یقین کر لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے، نتائج ہمیشہ باطن پر مترتب ہوتے ہیں ۔ ظاہر پرست رموز قدرت کو نہیں سمجھ سکتے ۔ سزا و جزا روح کے لیے ہے جو باچن پر منصرف رہتی ہے اور ہمیشہ دل کے اندر اورنیت پر حکمران ہے۔ یہ ظاہری ارکان و جوارح اسی مادے میں مل جائیں گےاور یہیں رہیں گے۔ لہٰذہ اس کی حرکات کا کوئی اعتبار نہیں۔وہ قاضی و مفتی جاہل و لانور یزدانی سے دور ہیں جوظاہری افعال و حرکات پر حکم دیتے ہیں۔ خضر و موسٰی کے قصے میں اس لاہوت اکبر نے موسٰی کے کی تائید نہیں کی جو ظاہر پرستی کر رہے تھے، بلکہ خضر کے موافق فیصلہ کیا جو رموز باطنی اور ارادہ صمدانی کو سمجھ رہےتھے۔ اسی طرح دیکھو ابراہیم علیہ سلام نےجب بی بی کو بہن بتایا تو ظاہر پرست بہت بہت گھبرائے کہ پیمبر کی عصمت میں فرق آگیا۔ مگر ان کی جہالت ہے۔ خدا ابراہیم علیہ اسلام کے دل کو دیکھ رہا تھا۔
الحاصل اے حسین! توخوب سمجھ لے کہ ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور خدا باطن کا طرف دار ہے۔ تجھے شیخ اور مرشد کی اطاعت آنکھیں بند کرکے اسی طرح کرنی چاہیے جیسی اطاعت کی خواہش خضر نے موسٰی سے کی تھی۔ “
حسین : (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک میں ایسی ہی اطاعت کروں گا۔ مگر کیا معاصی اور برے کاموں کابھی بے سمجھے ارتکاب کر لینا چاہیے؟
شیخ : (نہایت ہی جلال کے ساتھ اور آنکھیں سرخ کر کے)کیا تجھے یہ گمان ہے کہ مرشد برے کام کا حکم دے گا؟
حسین: (ڈر کےاور اخلاقی کمزوری کی شان سے) نہیں لیکن ممکن ہےکہ مرید اور عقید کیش کو وہ فعل گناہ نظر آتا ہو؟
شیخ :ممکن ہے۔ مگر اس کا باطن گناہ نہیں اور نتائج صرف باطن پر مترتب ہوتے ہیں۔
حیسن : مگر اسی باطن پر جو مرتکب اور کرنے والے کے دل میں ہو۔ میں ایک فعل کا ارتکاب کروں تو اس کے نتائج اسی نیت پر مترتب ہونگے جو میرے دل میں ہے۔ اگر مجھے اس کا باطنی اچھا رخ معلوم نہیں تو خواہ مخوہ میری نیت بھی بری ہی ہوگی۔ اور جب میری نیت بری ہوگی تو نتیجہ بھی اس نیت کے مطابق برا ہونا چاہیے۔
شیخ : (ذراجوش میں آکے اور آنکھیں سرخ کر کے) تو کیا تیرے نزدیک شیخ کی نیت پر شبہ کیا جاسکتا ہے؟ اوراسی پہلے رازِ لاہوتی کو تسلیم کرنے سے تجھے انکار ہے؟
حیسن : (شیخ کے قدمون پر گر کے) ہر گز نہیں مگر میری یہ باتیں محض اس لیے ہیں کہ “لیطمئن قلبی|قرآن کی آیت ہے تاکہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے|“ اور خدا وہ روزِ بد نہ لائے کہ میں شیخ کی نیت پر شبہ کروں ۔
یہ جواب سن کے شیخ نے حیسن کو اٹھا کے سینے سے لگایا اور اس کی پیٹھ پر شفقت کا ہاتھ پھر کے کہا: “سن! بے شک تیرے دل میں ابھی شکوک آتے ہوں گے مگر اس راہِ باطن میں جو جو قدم آگے بڑہانے کا تجھے نظر آتا جائے گا کہ مرید کی وقعت ایک بے جان آلے سے زیادہ نہیں ۔ مرید بعینہ ایک تلوار ہے جس کے قبضے پر شیخ کاہاتھ ہو۔ اور تو سمجھ سکتا ہے کہ تلوار برے بھلے جس کا سر چاہے اڑا دے۔ مگر الزام یاتحسین کی نسبت تلوار سے نہیں کی جاسکتی، بلکہ یہ چیزیں اسی کی طرف منسوب ہوتی ہیں جو اس تلوار کو ہاتھ میں لیے ہو۔ یقین ہے کہ اب تیرا شک رفع ہو گیا ہوگا اور تو سمجھنے لگا ہو گا کہ مرید کے افعال کا باطنی پہلو شیخ کی نیت سے متعلق ہے نہ خود مرید کےارادے سے۔ جب اس طرح اطاعت و مستعدی دکھا کے انسان ارادت کے مدارج طے کر چکتا ہے اس وقت ارشاد کے درجے کو پہنچتا ہےاور اسی وقت اس کی نیت قابلِ اعتبار اور بنائے نتائج ہوتی ہے۔ لیکن جب تک وہ ارادت کے درجے طے کر راہا ہے اس کے ارادوں اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس وقت تک اس کے ہر قول و فعل کا ذمہ دار شیخ اور مرشدہے۔“
حسین: (جوش و خروش سے شیخ کا ہاتھ چوم کر) بے شک بجا ہے ۔ اب میری آنکھوں کے سامنے سے حقیقت کا پردہ اٹھ گیا اور مجھے کسی حکم کی تعمیل میں عذر نہ ہوگا۔
شیخ: “حیسن! مرید کے سر پہ بڑی نازک ذمہ داری ہے اس سے زیادہ نفس کشی کیا ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے دل اور اپنی عقل کو اپنے افعال سے بالکل الگ کردے؛ مگر تو غور کرے گا تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ احکام الٰہی اور رفتار زمانہ کے بالکل موافق ہے۔ جن کاموں کی تعمیل خضر نے کی اور جن میں موسٰی سے مدد لی ان کا باطنی پہلو صرف خضر کے دل میں تھا اور موسٰی کی نیت میں وہ قطعی معاصی و گناہ تھے۔ مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ موسٰی نے گناہ کیا اور اتنے اتنے بڑے کبائر میں شریک ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؛ محض اس لیے کہ اس عالم باطنی میں خضر مرشد اور موسٰی مرید تھے۔ اس کی تعمیل خود ظاہر پرستوں میں روز ہوتی رہتی ہے۔ طبیب بظاہر نہایت حار بلکہ سمی دوا دیتا ہے اور مریض اگرچہ اسکے منافع سے بے خبر ہے مگر بلا تامل کھالیتا ہے اورنتیجہ وہی ہوتا ہے اور وہی سمجھا جاتا ے جو طبیب کی نیت میں ہے۔ ماں باپ لڑکے کو کسی کام پر مارتے ہیں ، لڑکا اس کام کو اپنے دل میں اچھا سمجھ کے کرتا ہے مگر ماں باپ اپنے ہی دل اور اپنے ہی خیال کی مضرت کی بنیاد پر مارتےہیں۔ اور اس مار کا نتیجہ ہر ایک کے نزدیک اچھا۔۔۔۔۔“
یہ تقریر ایسی موثر تھی کہ حسین اس سے زیادہ سننے کی تاب نا لا سکا اور ایک نہایت بے خودی کی وضع سے جوش میں آکے چلا اٹھا: “بے شک آپ بجا فرماتے ہیں ۔ میرے دل کو اطمینان ہوگیا اورکبھی کسی حکم سے سرتابی نہ کروں گا۔“
اس علم غیب اور اس مدلل تقریر نے حیسن کو شیخ علی وجودی کا ایسا گرویدہ بنا دیا کہ اس کی نظر میں اب سوا شیخ کے اور کسی چیز کی ہستی نہ تھی۔ اس کے کانوں میں ہر وقت شیخ کی آواز گونجتی، اس کی آنکھوں کے سامنے ہر گھڑی شیخ کی تصویر بھرتی اور اس کے دل میں ہر لحضہ شیخ کے احکام کا انتظار رہتا ۔ زمرد کی تصویر بھی اب اسی طرح ہمیشہ پیش نظر نہ تھی بلکہ کبھی کبھی خانقاہ کے حجرے میں لیٹ کے وہ زمرد کو خیال کی طرف متوجہ ہو کے کہتا: “پیاری زمرد! تو نے مجھے کہاں بھیجا ہے کہ خود تجھے بھولا جاتا ہوں؟“الغرض اب پورے کمال کے ساتھ اسے فنا فی الشیخ کا درجہ حاصل تھا۔
حیسن کو ارادت و عقیدت مندیکےساتھ شیخ کی خدمت کرنے گیارہ مہینے گزر گئے؛ اس نمانے میں ایک مرتبہ شیخ تین مہینے کے لیے غائب رہے اور کسی ایسے سفر پر گئے جس کو انھوں نے بالکل راز رکھا۔ حیسن ا نکی غیر موجودگی میں خانقاہ ہی میں رہا مگر اتنی مدت می اسے معلوم ہوگیا کہ شیخ علی وجودی کے مرید و معتقد کن کن شہروں اور کتنی کتنی دور پھیلے ہوئے ہیں۔ جن کا معمول تھا کہ سال میں ایک مرتبہ دور دراز کا سفر کر کے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور نئے نئے عجیب و غریب احکام سن کے واپس جاتے اور ان کی فورًا تعمیل ہوتی۔ ایک طرف خراسان، مکران، سیستان،فارس، رودبار،آذر بائجان،عراق عرب اور عراق عجم کے مرید آتے اور دوسری طرف عمان،حضرت موت،حجاز،یمن، زنجبار، مصر ، طرابلس الغرب،الجزیرہ اور تمام علاقہ افریقہ و ایشیائے کوچک کے معتقد۔ یہ سب لوگ مختلف وضع و لباس میں ہوتے اور پوشیدہ ہی پوشیدہ اکثر راتوں کو شیخ سے مل کے صبح ہونے سے پہلے ہی چلے جاتے۔ حسین اس امر کو نہایت ہی وقعت کی نظر سے دیکھتا کہ شیخ کےخوشہ چین اور ارادت مند کن کن اقطار عالم میں پھیلے ہوئی ہیں اور اتنے بڑے اژر اور حکومت کے ساتھ بظاہر کس سادگی اور بے نفسی کی زندگی بسرکرتے ہیں۔
ایک رات کو شیخ کے گرد دس بارہ مریدوں کا مجمع تھا، حیسن بھی نہایت ہی ادب کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھا تھا اور شیخ کی زبان فیض ترجمان بہت بڑے بڑے رموز حکمی اور روحانی کھول رہی تھی۔ ایک شخص نے جو مصر سے آٰیا ہوا تھا ادب سے مگر شک کرنے کے لہجے می کہا: “میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان جب اس جسم خاکی کو اسی خاک دان میں چھوڑ جاتا ہے تو جنت کی مسرتوں میں اسے کیوں کر لطف آتا ہے؟“
اس کے جواب میں شیخ نے کسی قدر برہمی سے کہا: “بعینہ ایسے ہی جس طرح کہ تم دنیا میں اس جسم کے ساتھ مزہ اٹھاتے ہو“
شخص : کیوں کر؟ جب لذت اور درد تو صرف جسم کے لواحق میں سے ہیں؟
شیخ :(ذرا اور جوش میں آکے) روح تو بے جسم ہوتی ہے مگر اسے معلوم یہی ہوتا ہے کہ گویا جسم میں ہے۔
شخص : یہ کیوں کر ہوسکتا ہے؟ جب مادے کی کثافت ہی نہیں تو اسے متشکل اور متحیز کون چیز کرتی ہے؟
یہ سن کے شیخ کی برہمی اعتدال سے زیادہ ہوگئی۔ انھوں نے حیسن کو پکار کے قریب بلایا اورکہا: “بتا جب تو کوہ البرز کی گھاٹی،کو جودی کے غار اور شہر خلیل کے تیرہ و تار تہ خانے میں تھا اس وقت تجھے میرے وہاں موجود ہونے تیری حالت دیکھتے رہنے کا یقین ہے؟“
حسین: (سینے پر ہاتھ رکھ کے) بے شک ہے۔ گو میری ناتواں آنکھیں نہ دیکھتی ہوں مگر حضرت کا جلوہ ضرور موجود تھا ورنہ وہاں کے رموز حضرت کو کیوں کر معلوم ہوسکتے۔
یہ سن کے شیخ نے ذرا فخر ونازکی شان سے گرد کے لوگوں کو دیکھا اور سب کے بعد اس شخص کے چہرے پر جس نے شک کیاتھا اپنی تیز نظریں جما دیں۔ مگر اسکے دل کو ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ شیخ علی وجودی کی اتنی برہم مزاجی دیکھ چکنے پر بھی معترضانہ طریقے سے بول اٹھا: “بے شک آپ وہاں موجود ہونگے اور حیسن کے ہر حال کو دیکھ رہے ہوں گے مگر صرف آپ کی روح تھی اور متشکل نہیں ہوئی تھی۔ ایسا ہوتا تو حسین آنکھوں سے بھی آُپ کے نورانی جلوے کو دیکھ لیتا۔“
یہ سنتے ہی شیخ کو تاب نہ رہی؛ زرو میں آکے اٹھ کھڑے ہوئے ، آنکھوں کی چمک دو چند ہو گئی منہ میں کف بھرآیا ور اس شخص کی طرف دیکھ کے کہا: “یہ مشت خاک نہایت ہی سرکش ہے یہ اس نور لانور کے شہود و وجود کو نہ سمجھتی ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی کو یہ راز بھی نہیں معلوم کہ دنیا کیوں ہے اور یہ روح لطیف اس پیکر خاکی میں ایک مدت تک کیوں قید رکھی جاتی ہے؟ اس کا راز مجھ سے سنو۔ میں وہ شخص ہوں جو سروشستان اور عالم لاہوت کا ایک آن میں دورہ کرتا ہوں ۔ اور ان رموز کو جو اس اولی تنوع نور لاہوتی یعنی عرش اعلٰی کے اطراف میں لکھے ہیں پڑھ آتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ جسم میں آنے سے پیشتر روح مجرد میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ کسی مادی مسرت سے لطف اٹھا سکے۔ اس وقت وہ محض مفر ہوتی ہے اور حظوظ و لذاذ سے فائدہ یاب ہونے کے طریقوں سے بالکل بے خبر۔صرف اسی چیز کا سبق لینے کے لیے وہ اس جسم خاکی میں رکھی جاتی ہے۔ وہ ًحدود زمانہ جسے تم زندگی کہتے ہو اورہم روحوں کے کمال حاصل کرنے کا مدرسہ صرف اسی لیے ہے کہ روح لطیف اس مادے کے ساتھ علائق پیدا کر کے ہر قسم کی لذتوں اورہر قسم کے الموں سے اتنی آشنائی پیدا کرلے کہ اس سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی جب چاہے اپے آپ کو متحیز و متشکل اور لذت و الم سے متاثر کرسکے۔ جس طرح کوئی شخص مدارج روحانی طے کرنے کے بعد یہ صلاحیت اور قوت حاصل کر لیتا ہے کہ اس جسم میں رہنے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو غائب یا روح مجردہ کی طرح غیر متشکل و غیر متحیز بنا لے اسی طرح روح انسانی عمومًااس جسم خاکی کے حجرے میں بند ہو کے اتنا چلہ کھینچ لیتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کے بعد بھی جب چاہے اور جیسی شکل میں چاہے نمودار اور آشکارا ہوجائے۔ بہت سے باکمال بزرگوں یا شہیدوں کو سنا ہوگا کہ ان کے جسم تو قبر کے کونے میں پڑے سڑ رہے تھے مگر روح اکثر لوگوں کی نظر کے سامنے اپنی سی یا کسی دوسری شکل میں نمودار ہوگئی۔ صرف ایک روح ہے جس نے بغیر جسم میں آئے اس کمال کو حاصل کر لیا۔ اس سے مراد جبرائیل علیہ سلام ہیں جو کبھی وحیہ کلبی اورکبھی دیگر پیکروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نمودار ہوئے۔ مگر اس رازکاجاننے ولا اس عالم میں میرے سوا کوئی نہیں کہ جبرائیل نے یہ کمال روح کیوں کر حاصل کیا۔ سنو! مسیح کی ولادت کو اسی رمز سے تعلق ہے۔ جبرائیل ہی تھے جو مریم صدیقہ کے جسم میں حلول کر کے مسیح کو صورت میں متحیز ہوئے اور تھوڑے ہی زمانے میں اپنا روحی کمال حاصل کرکے چلے گئے۔ مسیحیوں کو دھوکا ہوا کہ خدا تھا۔ مگر نہیں، وہ صرف ایک روح تھی جو ایک جسم سے جس میں دوسری روح بھی موجود تھی ، کمالات جسمانی حاصل کر کے آسمان پر چلی گئی۔ مسیح کو روح ایک دوسری روح تھی جو اس کے جسم میں تھی۔ مگر اسی کے ساتھ جبرائیل کی روح بھی انکے پیکر میں اتر کے چند روز رہی اور مسیح کے جسم سے الوہیت کی شان نمودار کرکے غائب ہوگئی۔ مردوں کو زندہ کر دینا یہ مسیح کا کام نہ تھا بلکہ صرف جبرائیل کی ملکوتی وقت کا مشہور ومسلم نتیجہ تھا جس کا تجربہ لوگوں کو موسٰی کے عہد میں بھی ہوچکا تھا|بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جب موسٰی علیہ سلام نے بحر قلزم میں قدم بڑہائے تو فرعون نے تعاقب میں بڑہنا چاہا مگر اس کا گھوڑا نہ بڑہتا تھا۔ پھر جبرائیل ایک گھوڑی پر سوار نمودار ہوئے اور بڑھےجن کے ساتھ فرعون کا گھوڑا بھی آگے بڑھا۔ سامری نے جبرائیل کی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی اٹھا کے رکھ لی تھی اور اس مٹی کے ڈالنے سے وہ گوسالا بولنے لگا جس کی بنی اسرائیل نے پرستش کی تھی۔|۔ مگر جن کو خدا نے چشم بینا نہیں دی آج بھی نہیں سمجھ سکتے اور مسیح کے اس معجزے کو یاد کرکے پریشان ہوتے ہیں ۔ الغرض یہ متحیز اور متشکل ہوسکنے کا کمال ہے اور جس کے حاصل کرنے کے لیے ہر روح دنیا میں آئی ہے اور یہاں سے جانے کے بعد اسی کمال کے مطابق جنت و دوزخ میں اپنے کردار کا جزا و ثواب پاتی ہے۔
تم میرے کمالات سے ناواقف ہو ۔ میں وہ شخص ہوں کہ خود ہی نہیں بلکہ ہر شخص کو اس ملااعلی پر پہنچا کے وہاں کی ہر چیز دکھا سکتا ہوں ۔ اورمیرے اختیار میں ہے کہ مجت کےروحانی پیکروں کو اس جسم خاکی کے سامنے لاکے کھڑا۔۔۔۔۔۔“
شیخ نے یہیں تک کہا تھا کہ حیسن روتا اور التجا کرتا ہوا ان کے قدموں میں گرا اور کہا: “یا حضرت! مجھے کسی مسئلے میں شک نہیں مگر اتنی تمنا کے کہ اس شروشستان اور جنت میں ہو آؤں۔ وقت آگیا کہ اپنی التجا آُ پکے سامنے پیش کروں اور یقین ہے کہ محروم نہ رہوں گا۔“
حیسن دیر تک شیخ کے قدموں پر لوٹتا رہا، مگر شیخ اس قدر جوش میں بھے ہوئے تھے کہ چند ساعت تک خاموش کھڑے رہے، پھر اس کو اٹھا کے بٹھایا اور کہا: “حیسن ! میرے اس وقت کے جوش سے تو نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا۔ خیر، اب اس وقت تو تامل کر؛ کل تنہائی میں پھر درخواست کرنا۔ بے شک وقت آگیا ہے کہ تجھے اس محنت و ریاضت کا پھل ملے ۔ مگر ابھی تیرا امتحان باقی ہے اور سخت امتحان ۔ مجھے ابھی دیکھنا ہے کہ تو نے کہاں تک اپنے آُ پکو مرشد کے ہاتھ میں دیا ہے اور یاد رکھ کہ جس قدر تجھے مرشد کا حکم بجالانے میں تامل ہوگا اسی قدر اپنا مقصد حاصل کرنے میں دیر ہوگی۔“
سب مرید رخصت ہو کے چلے گئے؛ حسین بھی اپنے بچھونے پر لیٹا۔ مگر یہ رات اسے نہایت ہی انتظارواضطراب سے بھرپور لگی اس لیے کہ“آتش شوق تیز تو گردد“ کا مضمون تھا۔ صبح کو نماز کے بعد جیسے ہی شیخ شریف علی وجودی نے وظیفے سے فراغت پائی،اوراد ختم کر کے بیٹھے ہی تھے کہ حیسن جاکے قدموں میں گرپڑا اور چلایا: “اب زیادہ صبر کی تاب نہیں ۔ آپ کو سب حالات خود ہی معلوم ہیں۔ مجھے کہنے کی بھی ضرورت نہیں ۔ مگر خدا کے لیے زمرد سے جلدی ملائیے۔“
شیخ: بہتر تو زمرد سے ملے گا اس کے وصل سے کامیاب ہوگا۔ مگر اس کے لیے اچھی طرح تیار ہے؟
حسین: دل و جان سے تیار۔
شیخ: دیکھ تجھے تامل نہ ہو؟
حسین: ذرا نہیں۔
شیخ: تیرے دل میں شک اور بد عقیدگی پیدا نہ ہو؟
حیسن: ہر گز نہیں۔
شیخ: جرات کا کام ہے!
حیسن: میں جان لڑا دوں گا۔
شیخ: اس میں خطرےبھی ہیں؟
حسین: ہوں۔
شیخ: تو سن!
حسین: ارشاد؟
شیخ: یہی نہیں دل مضبوط کرلے۔
حسین: خوب مضبوط ہے۔
شیخ: مجھے معلوم ہے کہ تونے کتب درسیہ امام نجم الدین نیشاپوری سے پڑہی ہیں اور انھیں کا تو مرید بھی ہے۔
حسین:(حیرت سے) بے شک ہوں؛ پورے پانچ سال انکے حلقہ درس میں شریک رہا۔
شیخ: تیرے دل میں ان کی کتنی وقعت ہے؟
حیسن: تمام عالم میں آپ کے بعد میں انھیں کو بہت بڑا عالم و فاصل بہت بڑا خدا شناس اور سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار سمجھتاہوں۔
شیخ: خیر تو جاکے ان طلبہ میں پھر شریک ہو اور جس وقت موقع ملے ان کو قتل۔۔۔۔۔۔۔
شیخ کی زبان سے اتنا ہی نکلا تھا کہ حسین نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوگیا۔


